ہم چل تو پڑے اے جذبۂ دل جانا ہے کدھر معلوم نہیں
ہم چل تو پڑے اے جذبۂ دل جانا ہے کدھر معلوم نہیں
آغاز سفر پر نازاں ہیں انجام سفر معلوم نہیں
کب جام بھرے کب دور چلے کب آئے ادھر معلوم نہیں
اٹھی بھی اگر ٹھہرے گی کہاں ساقی کی نظر معلوم نہیں
ہم نکہت گیسو کی کب سے اک آس لگائے بیٹھے ہیں
آتی ہے کدھر سے باد صبا جاتی ہے کدھر معلوم نہیں
ممکن ہو تو اک لمحے کو ذرا تکلیف تبسم کر لیجے
ہم میں سے ابھی تک کتنوں کو مفہوم سحر معلوم نہیں
جذبات کے سو عالم گزرے احساس کی صدیاں بیت گئیں
آنکھوں سے ابھی ان آنکھوں تک کتنا ہے سفر معلوم نہیں
کیا حال ہمارا رہتا ہے کیا ان کو زمانہ کہتا ہے
اچھا ہے انہیں معلوم نہ ہو کچھ ان کو اگر معلوم نہیں
اقبالؔ ہمارا جوش طلب کیا جانے کدھر لے جائے گا
نکلے ہیں تلاش منزل میں اور راہ گزر معلوم نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.