ایک دن یہ خبر چھوڑ جاؤں گا میں
ایک دن یہ خبر چھوڑ جاؤں گا میں
زندگی کا سفر چھوڑ جاؤں گا میں
اپنی پرواز پر ضبط کیسے کروں
تنگ آکر یہ گھر چھوڑ جاؤں گا میں
جو ملا ہے یہیں سے ملا اس لئے
جو بھی پایا ادھر چھوڑ جاؤں گا میں
ان کے آنسو بہیں گے مرے نام پر
عشق کا وہ اثر چھوڑ جاؤں گا میں
میرا حاصل یہ مصرعے ہیں اور علم ہے
سو غزل کا ہنر چھوڑ جاؤں گا میں
جس نظر سے وہ دیکھیں جہاں میرے بعد
ایک ایسی نظر چھوڑ جاؤں گا میں
سخت مشکل ہے قیصرؔ جہاں چھوڑنا
اس جہاں کو مگر چھوڑ جاؤں گا میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.