دور ہو کر وہ میری نظر میں رہا
دور ہو کر وہ میری نظر میں رہا
میں محبت کے ایسے سفر میں رہا
مجھ سے کھل کر محبت نہیں ہو سکی
میں تمہارے بچھڑنے کے ڈر میں رہا
کتنے پھولوں بھرے دن یوں ہی کٹ گئے
میں بہت دیر تیرے اثر میں رہا
دن پرندے کا گزرا ہے پرواز میں
دھیان اس کا مگر اک شجر میں رہا
میرے دم ہی سے تھیں سنسنی خیزیاں
میں نہیں جب رہا کیا خبر میں رہا
عمر ہجرت میں اپنی کٹی ہے مگر
دل ہمارا مظفر نگر میں رہا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.