بے مکانی راس آئے گی مکاں ہونے کے بعد
بے مکانی راس آئے گی مکاں ہونے کے بعد
یہ زمیں روئے گی مجھ کو آسماں ہونے کے بعد
اچھی باتیں اچھے لوگوں کی تمنا چھوڑیے
دل کو سمجھایا بہت لیکن زباں ہونے کے بعد
ایک پل خوش فہمیوں کا لے گیا سارا ہنر
ڈھونڈتا پھرتا ہوں خود کو رائیگاں ہونے کے بعد
میں اکیلا تھا تو کتنی منزلیں سر ہو گئیں
ٹوٹ کر بکھرا ہوں میر کارواں ہونے کے بعد
آسمانوں سے اتر آئے تھے اخترؔ کس لیے
شمع کی چوکھٹ پہ بیٹھے ہو دھواں ہونے کے بعد
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.