آ دوست ایسی گاڑی میں جا کر سوار ہو
آ دوست ایسی گاڑی میں جا کر سوار ہو
جو چلتے چلتے دنیا کی سرحد سے پار ہو
کوشش تو کر رہا ہوں کہ اب حوصلہ رکھوں
آنکھوں کا کیا بھروسہ کہ کب اشک بار ہو
اک زخم بھی بھرا نہ تھا کچھ زخم پھر ملے
یعنی ستم سے چور بدن تار تار ہو
سب دشمنوں سے بچ کے نکل جائے اور پھر
ترکش میں تیر لے کے نمودار یار ہو
پہلے چھڑک رہا تھا وہی زخم پر نمک
اب کیا کروں وہ شخص اگر غم گسار ہو
چلنے کی ٹھان لی ہے تو مڑ کر نہ دیکھنا
رستے میں چاہے پھول ہو پتھر ہو خار ہو
شعر و سخن سے گھر نہیں چلتا مرے عزیز
کوشش میں کر رہا ہوں کہ کچھ روزگار ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.