Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آ دوست ایسی گاڑی میں جا کر سوار ہو

ثقلین مشتاق

آ دوست ایسی گاڑی میں جا کر سوار ہو

ثقلین مشتاق

MORE BYثقلین مشتاق

    آ دوست ایسی گاڑی میں جا کر سوار ہو

    جو چلتے چلتے دنیا کی سرحد سے پار ہو

    کوشش تو کر رہا ہوں کہ اب حوصلہ رکھوں

    آنکھوں کا کیا بھروسہ کہ کب اشک بار ہو

    اک زخم بھی بھرا نہ تھا کچھ زخم پھر ملے

    یعنی ستم سے چور بدن تار تار ہو

    سب دشمنوں سے بچ کے نکل جائے اور پھر

    ترکش میں تیر لے کے نمودار یار ہو

    پہلے چھڑک رہا تھا وہی زخم پر نمک

    اب کیا کروں وہ شخص اگر غم گسار ہو

    چلنے کی ٹھان لی ہے تو مڑ کر نہ دیکھنا

    رستے میں چاہے پھول ہو پتھر ہو خار ہو

    شعر و سخن سے گھر نہیں چلتا مرے عزیز

    کوشش میں کر رہا ہوں کہ کچھ روزگار ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے