جب مرا خواب پہ ایمان نہیں ہوتا تھا
جب مرا خواب پہ ایمان نہیں ہوتا تھا
کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہوتا تھا
جب کسی میز پہ گلدان نہیں ہوتا تھا
پھول کوئی بھی پریشان نہیں ہوتا تھا
ہونا ہوتا تھا اسے مجھ سے بہر حال جدا
اور وہ مرحلہ آسان نہیں ہوتا تھا
میں بھی ہوتا تھا بہت تجھ سے بچھڑ کر نا خوش
اور خوش تو بھی مری جان نہیں ہوتا تھا
دیکھ لیتا تھا میں اکثر تجھے چپکے چپکے
جب ترا میری طرف دھیان نہیں ہوتا تھا
دیکھتا رہتا تھا میں راہ تری پہروں تک
گو ترے آنے کا امکان نہیں ہوتا تھا
جب میں کہتا تھا تمہارے لیے مر جاؤں گا
تو وہ اس بات پہ حیران نہیں ہوتا تھا
ہوتا رہتا تھا اگرچہ وہ خفا پہلے بھی
دل مگر اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا
جب کسی شخص پہ آ جاتی تھی کوئی مشکل
گاؤں میں کوئی بھی انجان نہیں ہوتا تھا
ہاں یہ سچ ہے کہ اسے ملنے سے پہلے ناظرؔ
آنکھ میں نیند کا فقدان نہیں ہوتا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.