Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب مرا خواب پہ ایمان نہیں ہوتا تھا

عثمان ناظر

جب مرا خواب پہ ایمان نہیں ہوتا تھا

عثمان ناظر

MORE BYعثمان ناظر

    جب مرا خواب پہ ایمان نہیں ہوتا تھا

    کوئی بھی راستہ آسان نہیں ہوتا تھا

    جب کسی میز پہ گلدان نہیں ہوتا تھا

    پھول کوئی بھی پریشان نہیں ہوتا تھا

    ہونا ہوتا تھا اسے مجھ سے بہر حال جدا

    اور وہ مرحلہ آسان نہیں ہوتا تھا

    میں بھی ہوتا تھا بہت تجھ سے بچھڑ کر نا خوش

    اور خوش تو بھی مری جان نہیں ہوتا تھا

    دیکھ لیتا تھا میں اکثر تجھے چپکے چپکے

    جب ترا میری طرف دھیان نہیں ہوتا تھا

    دیکھتا رہتا تھا میں راہ تری پہروں تک

    گو ترے آنے کا امکان نہیں ہوتا تھا

    جب میں کہتا تھا تمہارے لیے مر جاؤں گا

    تو وہ اس بات پہ حیران نہیں ہوتا تھا

    ہوتا رہتا تھا اگرچہ وہ خفا پہلے بھی

    دل مگر اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا

    جب کسی شخص پہ آ جاتی تھی کوئی مشکل

    گاؤں میں کوئی بھی انجان نہیں ہوتا تھا

    ہاں یہ سچ ہے کہ اسے ملنے سے پہلے ناظرؔ

    آنکھ میں نیند کا فقدان نہیں ہوتا تھا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے