کر گیا کام کٹ کے سر میرا
کر گیا کام کٹ کے سر میرا
خون بولا نگر نگر میرا
غنچہ غنچہ ثمر ثمر تیرا
باغ میرا شجر شجر میرا
چار سو ہیں اگے دھوئیں کے درخت
آگ میں ہے گھرا نگر میرا
بن رہا ہوں میں روشنی کا لباس
رقص میں ہے سدا شرر میرا
میں نئی منزلوں کا راہی ہوں
ختم ہوتا نہیں سفر میرا
آگ دے چاک سے جدا کر کے
بارشوں میں بنا نہ گھر میرا
موت فانی ہے جاوداں ہے حیات
ہے یہی نقطۂ نظر میرا
لفظ جب خوں میں ڈوب کر نکلا
سج گیا مقتل ہنر میرا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.