Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جب اٹھی شمشیر ظالم ظلم ڈھانے کے لیے

نظام نوشاہی سنبھلی

جب اٹھی شمشیر ظالم ظلم ڈھانے کے لیے

نظام نوشاہی سنبھلی

MORE BYنظام نوشاہی سنبھلی

    جب اٹھی شمشیر ظالم ظلم ڈھانے کے لیے

    جوش پر آئی محبت سر کٹانے کے لیے

    تیری خاطر جانے کس کس سے محبت کی گئی

    میرے ہمدم ایک تیرا پیار پانے کے لیے

    آج پھر میری نظر ان کی نظر سے مل گئی

    مدتیں لگ جائیں گی اب ہوش آنے کے لیے

    اس لیے مرشد کے در پر جا رہے ہیں دوستو

    زخم دل ہوتے نہیں سب کو دکھانے کے لیے

    اک ذرا سی ٹھیس پہنچی اور بکھر کر رہ گئے

    آپ تو تیار تھے سب کچھ لٹانے کے لئے

    ایک بوڑھے باپ نے خود کو بھی گروی رکھ دیا

    صرف اپنی بیٹیوں کے گھر بسانے کے لیے

    مدتوں کے بعد کیسے مسکرائے ہو نظامؔ

    کیا انہیں فرصت نہیں تھی یاد آنے کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے