جب اٹھی شمشیر ظالم ظلم ڈھانے کے لیے
جب اٹھی شمشیر ظالم ظلم ڈھانے کے لیے
جوش پر آئی محبت سر کٹانے کے لیے
تیری خاطر جانے کس کس سے محبت کی گئی
میرے ہمدم ایک تیرا پیار پانے کے لیے
آج پھر میری نظر ان کی نظر سے مل گئی
مدتیں لگ جائیں گی اب ہوش آنے کے لیے
اس لیے مرشد کے در پر جا رہے ہیں دوستو
زخم دل ہوتے نہیں سب کو دکھانے کے لیے
اک ذرا سی ٹھیس پہنچی اور بکھر کر رہ گئے
آپ تو تیار تھے سب کچھ لٹانے کے لئے
ایک بوڑھے باپ نے خود کو بھی گروی رکھ دیا
صرف اپنی بیٹیوں کے گھر بسانے کے لیے
مدتوں کے بعد کیسے مسکرائے ہو نظامؔ
کیا انہیں فرصت نہیں تھی یاد آنے کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.