اے تو کہ روز و شب کو مہ و آفتاب دے
اے تو کہ روز و شب کو مہ و آفتاب دے
برسوں کی جاگتی ہوئی آنکھوں کو خواب دے
میں وہ کہ نقش گر ترے ارض و سما کا ہوں
تو وہ کہ مجھ کو دونوں جہاں کا عذاب دے
سنتے ہیں اس کے ہاتھ قلم کر دیئے گئے
جو شخص پتھروں کو نگینوں کی آب دے
میں نے تو تن بدن کا لہو نذر کر دیا
اے شہریار تو بھی تو اپنا حساب دے
کس دل میں بو رہے ہو تمنا کے بیج تم
یہ دکھ کی سر زمین تو کالے گلاب دے
میں سر بکف ہوں تیغ ستم گر کے سامنے
اب اس سے بڑھ کے کیا کوئی اس کو جواب دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.