تمہاری جنبش لب نے کہا ہے
تمہاری جنبش لب نے کہا ہے
تمہارے دل میں اب بھی اک خلا ہے
ذرا اے دوست مجھ کو بھی دکھاؤ
تمہارے آستیں میں کیا چھپا ہے
وہ مل جائے ہمیشہ دل جو چاہے
پھر ایسی زندگی میں کیا رکھا ہے
جو سچ بولے زباں اس کی کتر دو
یہی حاکم کا اب کے فیصلہ ہے
مری غزلیں پرانی سوچ کی ہیں
مرا اس دور میں جینا سزا ہے
سنو عماؔن میری بات مانو
سبھی کو راز داں کرنا برا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.