کلیوں کو شاخ شاخ سے چننے میں عار کس کو ہے
کلیوں کو شاخ شاخ سے چننے میں عار کس کو ہے
کہنے کو گل پرست ہیں درد بہار کس کو ہے
غیروں کی رنجشوں کے تیر اپنوں کی سازشوں کے وار
زخموں کا کیا حساب دوں تاب شمار کس کو ہے
محبس روزگار میں جان بچے تو شکر ہے
حرص زدوں کی بھیڑ میں جائے فرار کس کو ہے
مجھ سے زیادہ کون ہے دار و رسن کا مستحق
میری طرح سے دوستو خوابوں سے پیار کس کو ہے
ویسے تو ہر کوئی یہاں سچ کی تلاش میں ہے گم
کس کو طلب ہے زہر کی خواہش دار کس کو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.