تنگ لمحات میں نہیں آئے
تنگ لمحات میں نہیں آئے
ہم ترے ہاتھ میں نہیں آئے
جانے الجھے ہیں کتنے کانٹوں سے
پھول خیرات میں نہیں آئے
وہ تو اپنی کہانیوں میں تھا
ہم کسی بات میں نہیں آئے
قسط در قسط درد ملتے رہے
سکھ بھی بہتات میں نہیں آئے
وہ ہمیں پیار کی طرف لاتے
ہم ہی جذبات میں نہیں آئے
وہ ہی جنت مزاج ٹھہرے ہیں
جو خرافات میں نہیں آئے
شکر ہے بغض اور حسد امجدؔ
میری عادات میں نہیں آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.