پہلے اپنی ذات پر اک رات طاری کیجئے
پہلے اپنی ذات پر اک رات طاری کیجئے
اور پھر اس رات میں اختر شماری کیجئے
اپنا غم کہتے ہوئے آنسو پہ قابو پائیے
اپنا غم کہتے ہوئے آواز بھاری کیجئے
خاک میں ملنا ہے اک دن یوں نہیں تو یوں سہی
خاک سر پر ڈالیے اور خاکساری کیجئے
خامشی تو عشق کا اعلان ہو سکتی نہیں
آہ و زاری شرط ہے سو آہ و زاری کیجئے
ہم گنہگار زمانہ اور وہ ہے بے نیاز
ایک بچے کی طرح منت گزاری کیجئے
ایک مدت سے پڑا ہوں آپ کی چوکھٹ پہ میں
لب کو زحمت دیجئے فرمان جاری کیجئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.