اول اول دی گئی تھی صرف رسوائی مجھے
اول اول دی گئی تھی صرف رسوائی مجھے
اب کہیں جا کر ملی ہے یہ پذیرائی مجھے
آپ سے پہلے تو میں اس لفظ سے لا علم تھا
آپ کو دیکھا تو آئی حسن آرائی مجھے
سنگ دل اتنا کہ خود پر بھی ترس کھاتا نہیں
موم کر دیتی ہے پر اک آنکھ بھر آئی مجھے
کل جو مجھ سے پوچھنے آتا تھا مفہوم وفا
اب وفا کا درس دیتا ہے وہ ہرجائی مجھے
شاعری ہے کام اور حسامؔ میرا نام ہے
لوگ ویسے جون کا کہتے ہیں شیدائی مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.