تمام عمر کا لب لباب رکھا ہے
تمام عمر کا لب لباب رکھا ہے
بشیر بدر کا ایک انتخاب رکھا ہے
اسی سے تازگی ملتی ہے میری یادوں کو
یہ جو کتاب میں سوکھا گلاب رکھا ہے
فضول رشک ہے تاروں پہ آسمان تجھے
سمندروں کے یہاں ماہتاب رکھا ہے
سوال عشق کئی بار پڑھنے پڑتے ہیں
انہیں سوالوں میں ان کا جواب رکھا ہے
کبھی نہ ملنے کی قسمیں فضول ہیں جاناں
ہمارے واسطے یوم الحساب رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.