بالآخر مستقل لڑتے ہوئے لشکر کا کیا ہوگا
بالآخر مستقل لڑتے ہوئے لشکر کا کیا ہوگا
بچیں گے ایک دو لیکن زیادہ تر کا کیا ہوگا
میں ایسے احتیاطاً تو بچا سکتا ہوں پیٹھ اپنی
مگر پھر سوچتا ہوں غیرت خنجر کا کیا ہوگا
سوار اب ہے سبھی پے دھن یہاں ترک تعلق کی
کسے پرواہ ہے میرے دل مضطر کا کیا ہوگا
سوا تیرے کوئی بھی تو نہیں آتا مرے گھر پر
تو گر روٹھے گا مجھ سے تو بتا اس گھر کا کیا ہوگا
بدن پڑ جائے گا ٹھنڈا مرا اک روز اور اس دن
میں دیکھوں گا تری اس گرمیٔ تیور کا کیا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.