بس باتیں بناتے ہو سدھر کیوں نہیں جاتے
بس باتیں بناتے ہو سدھر کیوں نہیں جاتے
جو کرنا ہے تم کو کبھی کر کیوں نہیں جاتے
جو تھک ہی گئے ہو تو ٹھہر کیوں نہیں جاتے
جینا نہیں آسان تو مر کیوں نہیں جاتے
کیوں اتنے تھکے ہارے سے پھرتے ہو جہاں میں
مے کے کسی دریا میں اتر کیوں نہیں جاتے
پورے نہیں کر پاتے تو شرمندہ سے کیوں ہو
وعدوں سے کبھی اپنے مکر کیوں نہیں جاتے
اک سوگ میں تم عمر گنوانے پہ تلے ہو
اک ڈھونڈ کے آئینہ سنور کیوں نہیں جاتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.