اس کا معمول ہے ہر روز شکایت صاحب
اس کا معمول ہے ہر روز شکایت صاحب
مجھ پہ لازم ہے کہ دینی ہے وضاحت صاحب
ہائے زنداں کی گھٹن میں ترا احساں مجھ پر
سانس لینے کی مجھے دے دی اجازت صاحب
آسمانوں کو مرے چھین لیا اس کے عوض
دی گئی ہے مجھے اک چھت کی سہولت صاحب
دھوپ برسات سے پھیکے نہیں ہوں گے ہرگز
اپنے رنگوں کی میں دیتی ہوں ضمانت صاحب
جنگ جیتی ہے انا کی سو وہ مسرور پھرے
میں بھی دفنانے کو بیٹھی ہوں محبت صاحب
میں منافق تو بہر حال نہیں ہو سکتی
جب نہ ایمان رہا کیسی اطاعت صاحب
تم میں دم ہے تو کرو ختم تعلق مجھ سے
کر رہی ہوں سر محفل میں بغاوت صاحب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.