رسم آوارگی سوغات نہیں ہوتی ہے
رسم آوارگی سوغات نہیں ہوتی ہے
میری صحرا سے ملاقات نہیں ہوتی ہے
بس سوالات کے دیتا ہے جوابات مجھے
بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے
اپنی حسرت کا گلا گھونٹ دیا ہے میں نے
اب دلاسوں سے ملاقات نہیں ہوتی ہے
میں نے سوچا نہ تھا دنیا سے کہوں گا یہ بھی
آج کل تجھ سے مری بات نہیں ہوتی ہے
یہ تو بادل ہے جو رستے سے بھٹک جاتا ہے
ورنہ صحراؤں میں برسات نہیں ہوتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.