Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ساتھ غیروں کو لئے وہ مرے گھر آتے ہیں

فصاحت لکھنوی

ساتھ غیروں کو لئے وہ مرے گھر آتے ہیں

فصاحت لکھنوی

MORE BYفصاحت لکھنوی

    ساتھ غیروں کو لئے وہ مرے گھر آتے ہیں

    خیر ہو دیکھیے آمادۂ شر آتے ہیں

    سامنے آپ کے دانتوں کے اگر آتے ہیں

    آب دیدہ در شہوار نظر آتے ہیں

    اس قدر حسن کا جلوہ ہے بسا آنکھوں میں

    دیکھتے ہم ہیں جدھر آپ نظر آتے ہیں

    قتل کرنا مرا منظور ہے ان کو شاید

    گنجفہ میں بھی جو شمشیر کا سر آتے ہیں

    رات کو غیر کے گھر رہ کے ہوئے ہیں وہ خجل

    شام کے بھولے ہوئے وقت سحر آتے ہیں

    آپ نے بزم رقیباں میں بلایا ہے ہمیں

    خیر تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر آتے ہیں

    چھوڑ کر مجھ کو عدم دوست گئے کتنی جلد

    نقش پا تک بھی نہیں ان کے نظر آتے ہیں

    سست اعضا ہوئے بالوں میں سفیدی آئی

    چونک پیغام سفر وقت سحر آتے ہیں

    جان عاشق کی نہ لے جلد ٹھہر جا دم بھر

    اب سنا ہے کہ وہ اے درد جگر آتے ہیں

    کیوں نکیرین کی پرسش کا فصاحتؔ ہے خوف

    پئے امداد شہہ جن و بشر آتے ہیں

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے