ساتھ غیروں کو لئے وہ مرے گھر آتے ہیں
ساتھ غیروں کو لئے وہ مرے گھر آتے ہیں
خیر ہو دیکھیے آمادۂ شر آتے ہیں
سامنے آپ کے دانتوں کے اگر آتے ہیں
آب دیدہ در شہوار نظر آتے ہیں
اس قدر حسن کا جلوہ ہے بسا آنکھوں میں
دیکھتے ہم ہیں جدھر آپ نظر آتے ہیں
قتل کرنا مرا منظور ہے ان کو شاید
گنجفہ میں بھی جو شمشیر کا سر آتے ہیں
رات کو غیر کے گھر رہ کے ہوئے ہیں وہ خجل
شام کے بھولے ہوئے وقت سحر آتے ہیں
آپ نے بزم رقیباں میں بلایا ہے ہمیں
خیر تھامے ہوئے ہاتھوں سے جگر آتے ہیں
چھوڑ کر مجھ کو عدم دوست گئے کتنی جلد
نقش پا تک بھی نہیں ان کے نظر آتے ہیں
سست اعضا ہوئے بالوں میں سفیدی آئی
چونک پیغام سفر وقت سحر آتے ہیں
جان عاشق کی نہ لے جلد ٹھہر جا دم بھر
اب سنا ہے کہ وہ اے درد جگر آتے ہیں
کیوں نکیرین کی پرسش کا فصاحتؔ ہے خوف
پئے امداد شہہ جن و بشر آتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.