سکوت شب پہ کھلا جب بھی میرے حال کا رنگ
سکوت شب پہ کھلا جب بھی میرے حال کا رنگ
فضا میں اور بھی گھلتا گیا ملال کا رنگ
ٹھہر گیا مری مٹی میں رنگ فصل بہار
گزر گیا ہے برس کر ترے جمال کا رنگ
پھر اس کے بعد کہاں آئنے میں تاب رہی
بس ایک عکس تھا اور عکس میں کمال کا رنگ
میں بند آنکھوں سے دیدار ان کا کرتا ہوں
کہیں وہ دیکھ نہ لیں آنکھ میں سوال کا رنگ
ندیمؔ پھر شب فرقت کا رنگ اڑنے لگا
مہک رہا ہے مرے بام پر وصال کا رنگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.