Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نسیم صبح یہ کیا کہہ گئی خدا جانے

اقبال صفی پوری

نسیم صبح یہ کیا کہہ گئی خدا جانے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    نسیم صبح یہ کیا کہہ گئی خدا جانے

    چھلک رہے ہیں چمن میں گلوں کے پیمانے

    گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے

    چھڑے ہوئے ہیں بہار و خزاں کے افسانے

    جہاں پہ چاک گریباں بھی چاک دل بن جائے

    گزر رہے ہیں اب ان منزلوں سے دیوانے

    زبان شوق جنہیں کہہ سکی نہ تیرے حضور

    مرے سکوت نے دہرا دئیے وہ افسانے

    مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا

    جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے

    نگاہ عشق میں دیر و حرم کی قید نہیں

    کہیں چراغ جلے اڑ چلیں گے پروانے

    نہ اعتبار نظارہ نہ اشتیاق جمال

    ٹھہر گئی ہے کہاں زندگی خدا جانے

    فروغ حسن سے ہے گرمیٔ وفا کتنی

    کہ ایک شمع ہے اور بے حساب پروانے

    ملے بچھڑ کے اک ایسی بھی راہ گردش میں

    ہماری عمر کے ساتھی ہمیں نہ پہچانے

    ہمیں اٹھانے سے پہلے یہ سوچ لے ساقی

    جہاں پہ رکھے ہیں رکھے رہیں گے پیمانے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے