نسیم صبح یہ کیا کہہ گئی خدا جانے
نسیم صبح یہ کیا کہہ گئی خدا جانے
چھلک رہے ہیں چمن میں گلوں کے پیمانے
گزر گئی جو چمن پر وہ کوئی کیا جانے
چھڑے ہوئے ہیں بہار و خزاں کے افسانے
جہاں پہ چاک گریباں بھی چاک دل بن جائے
گزر رہے ہیں اب ان منزلوں سے دیوانے
زبان شوق جنہیں کہہ سکی نہ تیرے حضور
مرے سکوت نے دہرا دئیے وہ افسانے
مرے لبوں کا تبسم تو سب نے دیکھ لیا
جو دل پہ بیت رہی ہے وہ کوئی کیا جانے
نگاہ عشق میں دیر و حرم کی قید نہیں
کہیں چراغ جلے اڑ چلیں گے پروانے
نہ اعتبار نظارہ نہ اشتیاق جمال
ٹھہر گئی ہے کہاں زندگی خدا جانے
فروغ حسن سے ہے گرمیٔ وفا کتنی
کہ ایک شمع ہے اور بے حساب پروانے
ملے بچھڑ کے اک ایسی بھی راہ گردش میں
ہماری عمر کے ساتھی ہمیں نہ پہچانے
ہمیں اٹھانے سے پہلے یہ سوچ لے ساقی
جہاں پہ رکھے ہیں رکھے رہیں گے پیمانے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.