دوسری بار یہ منت کش ساقی نہ ہوا
دوسری بار یہ منت کش ساقی نہ ہوا
عشق وہ خم ہے جو بھر کر کبھی خالی نہ ہوا
روک دے رقص مسرت کوئی شاید اس کا
درد کے بس میں تو ہوگا دل وحشی نہ ہوا
لفظ کچھ کہتے تھے چہرے کا تأثر کچھ تھا
یوں ہوا بات پہ آمادہ وہ یعنی نہ ہوا
جانے کب کون سی شب اس پہ ہو وہ راز عیاں
نیند میں بھی جو مری آنکھ سے مخفی نہ ہوا
مدتوں بعد ہوا آج موافق تھی نظر
بادباں آج بھی رقصاں سر کشتی نہ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.