Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چھوڑ کر نشاں اپنا بے نشان بھی ہوگا

ایمن جعفری

چھوڑ کر نشاں اپنا بے نشان بھی ہوگا

ایمن جعفری

MORE BYایمن جعفری

    چھوڑ کر نشاں اپنا بے نشان بھی ہوگا

    اپنی شہرتوں سے وہ بد گمان بھی ہوگا

    عکس اس کے چہرے کا چہرہ چہرہ دیکھو گے

    وہ زمین ہے تو کل آسمان بھی ہوگا

    تذکروں کے دروازے بے سبب نہیں کھلتے

    اس کے راز کا کوئی راز دان بھی ہوگا

    تتلیاں خیالوں کی دھوپ میں نہیں اڑتیں

    شہر میں امیدوں کا سائبان بھی ہوگا

    تجربے کے شیشے بھی ساتھ لے چلو اپنے

    جب شکستہ ہیں راہیں نیش جان بھی ہوگا

    سوچ کے سمندر میں ڈوبنے سے کیا حاصل

    جب یقین آئے گا تو گمان بھی ہوگا

    پتھروں سے پھوٹے گی روشنی ضرور اک دن

    وقت ٹوٹے لمحوں پر مہربان بھی ہوگا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے