چھوڑ کر نشاں اپنا بے نشان بھی ہوگا
چھوڑ کر نشاں اپنا بے نشان بھی ہوگا
اپنی شہرتوں سے وہ بد گمان بھی ہوگا
عکس اس کے چہرے کا چہرہ چہرہ دیکھو گے
وہ زمین ہے تو کل آسمان بھی ہوگا
تذکروں کے دروازے بے سبب نہیں کھلتے
اس کے راز کا کوئی راز دان بھی ہوگا
تتلیاں خیالوں کی دھوپ میں نہیں اڑتیں
شہر میں امیدوں کا سائبان بھی ہوگا
تجربے کے شیشے بھی ساتھ لے چلو اپنے
جب شکستہ ہیں راہیں نیش جان بھی ہوگا
سوچ کے سمندر میں ڈوبنے سے کیا حاصل
جب یقین آئے گا تو گمان بھی ہوگا
پتھروں سے پھوٹے گی روشنی ضرور اک دن
وقت ٹوٹے لمحوں پر مہربان بھی ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.