اتر رہی ہے رگوں میں سیاہ رات ابھی
اتر رہی ہے رگوں میں سیاہ رات ابھی
لہو لہو نہ میں کر دوں یہ کائنات ابھی
وہ جس کے چولے پہ پیوند سے چمکتے ہیں
اسی کی جیب سے نکلیں گے ممکنات ابھی
مجھے تو اور بھی کچھ حسن دیکھنا ہے ترا
بہت ہی کم ہیں مجھے تیری شش جہات ابھی
جدید دور ہے آواز سے وہ لکھتا ہے
کہ پھینک آیا مقدس قلم دوات ابھی
یہ کل کی بات ہے کیا صدق و کذب نکلے گا
مجھے عزیز ہیں باسطؔ توہمات ابھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.