تجھ سے ملتے ہیں تو اوقات میں آ جاتے ہیں
تجھ سے ملتے ہیں تو اوقات میں آ جاتے ہیں
ورنہ ہم لوگ تو جذبات میں آ جاتے ہیں
کون جانے کہ چمک ان کی ہے کس رنگ میں قید
آنکھ سے موتی جو برسات میں آ جاتے ہیں
دل کے خوشحال دکھاوے کو رہا کرتے ہیں خوش
شام ڈھلتی ہے تو صدمات میں آ جاتے ہیں
جم گئے ہیں جو کئی جذبے بدن کے اندر
دیکھ کر تجھ کو وہ حرکات میں آ جاتے ہیں
راتیں رو رو کے گزرتی ہیں ترے بن اور پھر
دن مرے حلقۂ آفات میں آ جاتے ہیں
لوگ سارے ہی سمجھدار ہیں لیکن اخترؔ
ایک ہم ہیں جو تری بات میں آ جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.