Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

میاں داد خاں سیاح

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

میاں داد خاں سیاح

قیس جنگل میں اکیلا ہے مجھے جانے دو

خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو

لال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھلا

مئے گل رنگ سے لبریز ہیں پیمانے دو

ٹھہرو تیوری کو چڑھائے ہوئے جاتے ہو کدھر

دل کا صدقہ تو ابھی سر سے اتر جانے دو

منع کیوں کرتے ہو عشق بت شیریں لب سے

کیا مزے کا ہے یہ غم دوستو غم کھانے دو

ہم بھی منزل پہ پہنچ جائیں گے مرتے کھپتے

قافلہ یاروں کا جاتا ہے اگر جانے دو

شمع و پروانہ نہ محفل میں ہوں باہم زنہار

شمع رو نے مجھے بھیجے ہیں یہ پروانے دو

ایک عالم نظر آئے گا گرفتار تمہیں

اپنے گیسوئے رسا تا بہ کمر جانے دو

سخت جانی سے میں عاری ہوں نہایت اے تلخؔ

پڑ گئے ہیں تری شمشیر میں دندانے دو

حشر میں پیش خدا فیصلہ اس کا ہوگا

زندگی میں مجھے اس گبر کو ترسانے دو

گر محبت ہے تو وہ مجھ سے پھرے گا نہ کبھی

غم نہیں ہے مجھے غماز کو بھڑکانے دو

جوش بارش ہے ابھی تھمتے ہو کیا اے اشکو

دامن کوہ و بیاباں کو تو بھر جانے دو

واعظوں کو نہ کرے منع نصیحت سے کوئی

میں نہ سمجھوں گا کسی طرح سے سمجھانے دو

رنج دیتا ہے جو وہ پاس نہ جاؤ سیاحؔ

مانو کہنے کو مرے دور کرو جانے دو

مأخذ :
  • کتاب : Miyadad Khan Saiyyah (Pg. 89)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے