قید ہستی میں گرفتار کیا
قید ہستی میں گرفتار کیا
ہوش کو مائل پیکار کیا
قلب کو دے کے نگاہ معصوم
جبر کے دام میں بیدار کیا
کرب آلام میں کروٹ کروٹ
عقل کو زندہ و عیار کیا
ظلمت درد کی پہنائی میں
دل کو حسرت گہہ انوار کیا
خوں سے تحریر ہے قرطاس بقا
قہر کو داور پندار کیا
عرش کی سمت اٹھا دیں نظریں
ارض کو عرصۂ ادبار کیا
کس نے دوڑائی یہ تخریب کی رو
دست عاجز کو گنہ گار کیا
جس طرف موڑی عنان ہستی
خون سے دید کو سرشار کیا
رنگ تقدیر کہ تھا رنگ ہوس
آنکھ کو کس نے گہر بار کیا
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.