دل پھینکے ہے غیروں کی طرف بلکہ جگر بھی
دل پھینکے ہے غیروں کی طرف بلکہ جگر بھی
بہلانے کو کر دیتا ہے یاں ایک نظر بھی
جلتا ہے یہ سینہ مرا کڑھتا ہے جگر بھی
غیروں پہ جو پڑتی ہے تری ایک نظر بھی
اٹھتا جو تھا کچھ درد پتا ملتا تھا دل کا
یوں لگتا ہے اب دل یہ ادھر بھی ہے ادھر بھی
قاصد نہ رہی اب کے ہمیں تیری ضرورت
اب آگ برابر سی ادھر بھی ہے ادھر بھی
آنکھوں سے گرا دیتے ہیں عشاق کے لشکر
قابل ہو اگر کوئی تو ملتے ہیں ہنر بھی
یہ سن کے پری زادوں نے زلفوں کو سنوارا
کہتے ہی ہو آتا ہے تمہیں کوئی ہنر بھی
کیا ارسلاںؔ آتی ہے کبھی موت بلائے
کچھ عشق تو کر جان جلا پھر کہیں مر بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.