میں ترے واسطے چھوڑ آئی جہاں
میں ترے واسطے چھوڑ آئی جہاں
دل تجھے اب پکارے کہ تو ہے کہاں
اے پرندے مرے گھر مکیں بن کے رہ
چھین لیتا ہے سب کچھ یہاں آسماں
خود کو تنہا رکھا خود کو سادہ رکھا
اب میں رنگینیاں لے کے جاؤں کہاں
پہلے ہنسنا ہنسانا سکھایا مجھے
پھر حوالے مرے کر دیں تنہائیاں
بے سبب ہی سنورتی رہی عاشقی
ہم کو پھیکی لگی ساری رعنائیاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.