یہ جو لکھا ہے مجھے یہ جو مٹایا ہے مجھے
دلچسپ معلومات
ہے زمین غالب کی اور آسماں اپنا
یہ جو لکھا ہے مجھے یہ جو مٹایا ہے مجھے
نہ سہی اور تماشا تو بنایا ہے مجھے
کوئی تیر و تبر اپنا بھی نکالا ہوتا
میرے ہی اسلحہ سے اس نے ڈرایا ہے مجھے
جیسے یہ سب ہیں اسی طرح کا ہو جاؤں اگر
بیٹھے بیٹھے یہ خیال آج ہی آیا ہے مجھے
عیب رکھتا ہوں کہ آخر یہ ہنر ہے میرا
دھوپ میری ہے یہی اور یہی سایا ہے مجھے
تاکہ میں کچھ نہ کہوں وضع کی مجبوری میں
اس لیے مسند ایواں پہ بٹھایا ہے مجھے
سر تسلیم ہوں جس طور جھکایا مجھ کو
دست تائید ہوں جس رنگ اٹھایا ہے مجھے
میں ہوں وہ خوں کہ بہایا ہے مجھے سڑکوں پر
میں ہوں وہ رنگ کہ چہروں سے اڑایا ہے مجھے
پھڑپھڑاتا ہوں ابھی زور ہوا میں رخ پر
نہ اٹھایا ہے ابھی اور نہ گرایا ہے مجھے
میں کہ اس عہد میں منکر ہوں ظفرؔ اپنا بھی
کس لیے محفل غالبؔ میں بلایا ہے مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.