Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ جو لکھا ہے مجھے یہ جو مٹایا ہے مجھے

ظفر اقبال

یہ جو لکھا ہے مجھے یہ جو مٹایا ہے مجھے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    دلچسپ معلومات

    ہے زمین غالب کی اور آسماں اپنا

    یہ جو لکھا ہے مجھے یہ جو مٹایا ہے مجھے

    نہ سہی اور تماشا تو بنایا ہے مجھے

    کوئی تیر و تبر اپنا بھی نکالا ہوتا

    میرے ہی اسلحہ سے اس نے ڈرایا ہے مجھے

    جیسے یہ سب ہیں اسی طرح کا ہو جاؤں اگر

    بیٹھے بیٹھے یہ خیال آج ہی آیا ہے مجھے

    عیب رکھتا ہوں کہ آخر یہ ہنر ہے میرا

    دھوپ میری ہے یہی اور یہی سایا ہے مجھے

    تاکہ میں کچھ نہ کہوں وضع کی مجبوری میں

    اس لیے مسند ایواں پہ بٹھایا ہے مجھے

    سر تسلیم ہوں جس طور جھکایا مجھ کو

    دست تائید ہوں جس رنگ اٹھایا ہے مجھے

    میں ہوں وہ خوں کہ بہایا ہے مجھے سڑکوں پر

    میں ہوں وہ رنگ کہ چہروں سے اڑایا ہے مجھے

    پھڑپھڑاتا ہوں ابھی زور ہوا میں رخ پر

    نہ اٹھایا ہے ابھی اور نہ گرایا ہے مجھے

    میں کہ اس عہد میں منکر ہوں ظفرؔ اپنا بھی

    کس لیے محفل غالبؔ میں بلایا ہے مجھے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے