Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس دل میں مرا درد اگا ہے تو کہاں ہے

سیف زلفی

اس دل میں مرا درد اگا ہے تو کہاں ہے

سیف زلفی

MORE BYسیف زلفی

    اس دل میں مرا درد اگا ہے تو کہاں ہے

    پتھر میں اگر پھول کھلا ہے تو کہاں ہے

    تو مجھ کو کہیں اور دکھائی نہیں دیتا

    تو اور کہیں میرے سوا ہے تو کہاں ہے

    میری تو ہر اک آہ رسالوں میں ہے محفوظ

    تو نے بھی کوئی شعر لکھا ہے تو کہاں ہے

    ایثار کے مقتل میں گلا اپنا کٹانا

    یہ مسلک ارباب وفا ہے تو کہاں ہے

    تا حد نظر ذہن کا میدان ہے چٹیل

    آندھی سے کوئی پیڑ بچا ہے تو کہاں ہے

    کل شب مرے بچے نے کہا مجھ سے لپٹ کر

    ابو یہ دکھاؤ کہ خدا ہے تو کہاں ہے

    کچھ اور بجز خار نظر تو نہیں آتا

    شاخوں نے کوئی پھول چنا ہے تو کہاں ہے

    یہ رات کا عالم یہ بیاباں کی مسافت

    ایسے میں اگر کوئی دیا ہے تو کہاں ہے

    دیکھی ہوئی تصویر دکھاتے ہیں سخن ور

    لہجے میں کوئی رنگ نیا ہے تو کہاں ہے

    بے روح خیالوں کی زباں تک نہیں کھلتی

    مردوں میں اگر صوت و صدا ہے تو کہاں ہے

    اک حبس مقید ہے مرے دیدہ و دل میں

    ان بند اطاقوں میں ہوا ہے تو کہاں ہے

    قاتل بھی عدالت سے بری ہوتے ہیں زلفی

    دنیا میں شقاوت کی سزا ہے تو کہاں ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے