اس دل میں مرا درد اگا ہے تو کہاں ہے
اس دل میں مرا درد اگا ہے تو کہاں ہے
پتھر میں اگر پھول کھلا ہے تو کہاں ہے
تو مجھ کو کہیں اور دکھائی نہیں دیتا
تو اور کہیں میرے سوا ہے تو کہاں ہے
میری تو ہر اک آہ رسالوں میں ہے محفوظ
تو نے بھی کوئی شعر لکھا ہے تو کہاں ہے
ایثار کے مقتل میں گلا اپنا کٹانا
یہ مسلک ارباب وفا ہے تو کہاں ہے
تا حد نظر ذہن کا میدان ہے چٹیل
آندھی سے کوئی پیڑ بچا ہے تو کہاں ہے
کل شب مرے بچے نے کہا مجھ سے لپٹ کر
ابو یہ دکھاؤ کہ خدا ہے تو کہاں ہے
کچھ اور بجز خار نظر تو نہیں آتا
شاخوں نے کوئی پھول چنا ہے تو کہاں ہے
یہ رات کا عالم یہ بیاباں کی مسافت
ایسے میں اگر کوئی دیا ہے تو کہاں ہے
دیکھی ہوئی تصویر دکھاتے ہیں سخن ور
لہجے میں کوئی رنگ نیا ہے تو کہاں ہے
بے روح خیالوں کی زباں تک نہیں کھلتی
مردوں میں اگر صوت و صدا ہے تو کہاں ہے
اک حبس مقید ہے مرے دیدہ و دل میں
ان بند اطاقوں میں ہوا ہے تو کہاں ہے
قاتل بھی عدالت سے بری ہوتے ہیں زلفی
دنیا میں شقاوت کی سزا ہے تو کہاں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.