سعدیؔ ہجوم یار میں پھر پڑھ نئی غزل
سعدیؔ ہجوم یار میں پھر پڑھ نئی غزل
ہے قیس انتظار میں پھر پڑھ نئی غزل
اک شیشے پر ہزار ستم ہائے سنگ ہیں
اس عہد اضطرار میں پھر پڑھ نئی غزل
شمشیر بے نیام بکف ہیں ستم گراں
شہر ستیزہ کار میں پھر پڑھ نئی غزل
پھر سے ہوا ہے خون امید وفا شعار
بزم ستم شعار میں پھر پڑھ نئی غزل
سورج سے عہد سایہ لیا ہم تھے بےوقوف
ہر سو تپش ہے دار میں پھر پڑھ نئی غزل
ویراں چمن اداس ہے رت غم کی ہے فضا
یاد شب بہار میں پھر پڑھ نئی غزل
سعدیؔ جہان عشق سے ہو جا علیحدہ
تا دم خیال یار میں پھر پڑھ نئی غزل
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.