جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے
جو آگ کو گلزار کرے کوئی نہیں ہے
حق بات سر دار کرے کوئی نہیں ہے
منسوب تو سورج سے کئی نام یہاں ہیں
جو تیرگی کو تار کرے کوئی نہیں ہے
آباد جہاں صورت انساں ہیں درندے
ان محلوں کو مسمار کرے کوئی نہیں ہے
سب گنگ زبانیں ہیں یہاں شاہ کے آگے
جو رائے کا اظہار کرے کوئی نہیں ہے
قاتل کو ہی شاباش دیئے جاتے ہیں سب لوگ
جو اس کو نگوں سار کرے کوئی نہیں ہے
سب نیند کی گولی ہی کھلاتے ہیں مسیحا
جو نیند سے بیدار کرے کوئی نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.