ہوا ہے اس طرح جلوہ آرا وہ پردہ داری سے تنگ ہو کر
ہوا ہے اس طرح جلوہ آرا وہ پردہ داری سے تنگ ہو کر
کہیں ہے تاروں کا حسن بن کر کہیں ہے پھولوں کا رنگ ہو کر
حرم کا ماحول ہی الگ ہے یہاں وہ کیسے دکھائی دے گا
بتوں کی صورت میں ڈھل گیا ہے جو حسن تقدیر سنگ ہو کر
بچاتے کیسے ہم آشیانہ تھی چار تنکوں کی کیا حقیقت
زمیں تک آئے جب ایک بجلی فلک نشینی سے تنگ ہو کر
ضیائے عارض چمک رہی ہے لبوں کی سرخی دہک رہی ہے
سحر کے حصے میں نور ہو کر شفق کے حصے میں رنگ ہو کر
وہ پائیں مر کر بھی زندگانی تو کس قدر بد حواس ہوں گے
اجل کو آواز دے رہے ہیں جو زندگانی سے تنگ ہو کر
قریب ہے کچھ دنوں سے غم بھی گلے لگائیں نہ کیوں اسی کو
خوشی نے ہم کو بھلا دیا جب ہمارے دل کی امنگ ہو کر
عدیلؔ جو بات خوف جاں سے بڑے بڑے بھی نہ کہنے پائے
کہی ہے وہ بات دار پر بھی کسی نے بے نام و ننگ ہو کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.