Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہوا ہے اس طرح جلوہ آرا وہ پردہ داری سے تنگ ہو کر

نظیر علی عدیل

ہوا ہے اس طرح جلوہ آرا وہ پردہ داری سے تنگ ہو کر

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    ہوا ہے اس طرح جلوہ آرا وہ پردہ داری سے تنگ ہو کر

    کہیں ہے تاروں کا حسن بن کر کہیں ہے پھولوں کا رنگ ہو کر

    حرم کا ماحول ہی الگ ہے یہاں وہ کیسے دکھائی دے گا

    بتوں کی صورت میں ڈھل گیا ہے جو حسن تقدیر سنگ ہو کر

    بچاتے کیسے ہم آشیانہ تھی چار تنکوں کی کیا حقیقت

    زمیں تک آئے جب ایک بجلی فلک نشینی سے تنگ ہو کر

    ضیائے عارض چمک رہی ہے لبوں کی سرخی دہک رہی ہے

    سحر کے حصے میں نور ہو کر شفق کے حصے میں رنگ ہو کر

    وہ پائیں مر کر بھی زندگانی تو کس قدر بد حواس ہوں گے

    اجل کو آواز دے رہے ہیں جو زندگانی سے تنگ ہو کر

    قریب ہے کچھ دنوں سے غم بھی گلے لگائیں نہ کیوں اسی کو

    خوشی نے ہم کو بھلا دیا جب ہمارے دل کی امنگ ہو کر

    عدیلؔ جو بات خوف جاں سے بڑے بڑے بھی نہ کہنے پائے

    کہی ہے وہ بات دار پر بھی کسی نے بے نام و ننگ ہو کر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے