گنج گفتار کو گلیوں میں گنوا کر نکلے
گنج گفتار کو گلیوں میں گنوا کر نکلے
ایک خاموشی کو چہرے پہ سجا کر نکلے
تیری دنیا نے ترے بھید کو سمجھا نہ سنا
اپنا منصب تو یہی تھا کہ سجھا کر نکلے
بنت کشمیر کی روتی ہوئی فریاد سنو
اک خبر بیچنے بازار میں ہاکر نکلے
آگ تھے اور برستے رہے پانی بن کر
نفس باد تھے اور خاک اڑا کر نکلے
راستہ ڈھونڈ لیا خود سے جدا ہو گئے ہم
ایک نادیدہ کو جب سامنے پا کر نکلے
پاؤں جلتی ہوئی تلوار پہ دھر کر گزرے
سر پہ اک بار امانت کو اٹھا کر نکلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.