دھرتی کے خدا شعلۂ قندیل گرا دیں
دھرتی کے خدا شعلۂ قندیل گرا دیں
ممکن ہو اگر پھونک سے سورج کو بجھا دیں
مقتل کو چلا پھر کسی شبیر کا اصغر
کہہ دو انہیں اس دور کے حرمل کو صدا دیں
یوسف کا گریباں ہو کہ مریم کی طہارت
تہمت سے یہ ہر سینۂ شبنم کو جلا دیں
گر چاہیں یہ مسجد ہو کلیسا ہو کہ مندر
پتھر کو زباں دیں کسی منبر پہ بٹھا دیں
فاطرؔ یہ زمانے کے خداؤں کا چلن ہے
نفرت کی جہاں چاہیں یہ دیوار اٹھا دیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.