Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سہمی سہمی سی مرے دل کی یہ حالت کیوں ہے

حبیب ندیم

سہمی سہمی سی مرے دل کی یہ حالت کیوں ہے

حبیب ندیم

MORE BYحبیب ندیم

    سہمی سہمی سی مرے دل کی یہ حالت کیوں ہے

    کشمکش میں ہوں انہیں مجھ سے عداوت کیوں ہے

    اس نے ہی مجھ کو جدائی کا دیا تھا صدمہ

    اب اسے میری محبت کی ضرورت کیوں ہے

    جب اجالوں سے نہیں ہے انہیں نفرت وحشت

    پھر ہواؤں کو چراغوں سے بغاوت کیوں ہے

    میں نے اپنوں کے لیے عمر فنا کر ڈالی

    پھر بھی ہر دم انہیں مجھ سے ہی شکایت کیوں ہے

    امن کے نعرے سبھی لوگ لگاتے ہیں یہاں

    خون کے رنگ سے رنگین سیاست کیوں ہے

    کتنے دھوکے ہیں ملے مجھ کو محبت میں تری

    پھر بھی اس دل کو بتا تجھ سے محبت کیوں ہے

    زخم ہنس ہنس کے حبیبؔ اس نے دیے تھے لیکن

    میری حالت پہ ابھی اتنی ندامت کیوں ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے