سہمی سہمی سی مرے دل کی یہ حالت کیوں ہے
سہمی سہمی سی مرے دل کی یہ حالت کیوں ہے
کشمکش میں ہوں انہیں مجھ سے عداوت کیوں ہے
اس نے ہی مجھ کو جدائی کا دیا تھا صدمہ
اب اسے میری محبت کی ضرورت کیوں ہے
جب اجالوں سے نہیں ہے انہیں نفرت وحشت
پھر ہواؤں کو چراغوں سے بغاوت کیوں ہے
میں نے اپنوں کے لیے عمر فنا کر ڈالی
پھر بھی ہر دم انہیں مجھ سے ہی شکایت کیوں ہے
امن کے نعرے سبھی لوگ لگاتے ہیں یہاں
خون کے رنگ سے رنگین سیاست کیوں ہے
کتنے دھوکے ہیں ملے مجھ کو محبت میں تری
پھر بھی اس دل کو بتا تجھ سے محبت کیوں ہے
زخم ہنس ہنس کے حبیبؔ اس نے دیے تھے لیکن
میری حالت پہ ابھی اتنی ندامت کیوں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.