Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گفتگو کم ہو تو معیار خفا ہوتے ہیں

فیصل شہزاد

گفتگو کم ہو تو معیار خفا ہوتے ہیں

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    گفتگو کم ہو تو معیار خفا ہوتے ہیں

    باتوں باتوں پہ مرے یار خفا ہوتے ہیں

    اتنے یاروں کو بھلا کیسے کوئی خوش رکھے

    ایک راضی ہو تو دو چار خفا ہوتے ہیں

    بے ارادہ جو کبھی گھر سے نکلتے ہیں کہیں

    ہم سے گھر کے در و دیوار خفا ہوتے ہیں

    ان کو ہر روز مناتا ہوں کئی بار کہ وہ

    مجھ سے اک دن میں کئی بار خفا ہوتے ہیں

    کر دیا کس نے پرندوں کے ٹھکانوں کا یہ حال

    گھونسلے دیکھ کے اشجار خفا ہوتے ہیں

    گاؤں کے لوگ اگر فیصلے خود کرنے لگیں

    ان سے پھر گاؤں کے سردار خفا ہوتے ہیں

    ذکر تو ہم نے زمانے کی وفا کا چھیڑا

    آپ کس بات پہ سرکار خفا ہوتے ہیں

    اس لئے بھی یہاں خاموش پڑا رہتا ہوں

    غم بتاؤں تو یہ غم خوار خفا ہوتے ہیں

    حال دل ہم کو سنانے سے گریزاں بھی ہیں

    ہم نہ پوچھیں تو یہ بیمار خفا ہوتے ہیں

    نیکی اس شرط پہ کرتے ہیں کہ تصویر بنے

    گر کوئی روکے تو سرکار خفا ہوتے ہیں

    نقص تعمیر میں جب کوئی نکالے فیصلؔ

    ظاہری بات ہے معمار خفا ہوتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے