گفتگو کم ہو تو معیار خفا ہوتے ہیں
گفتگو کم ہو تو معیار خفا ہوتے ہیں
باتوں باتوں پہ مرے یار خفا ہوتے ہیں
اتنے یاروں کو بھلا کیسے کوئی خوش رکھے
ایک راضی ہو تو دو چار خفا ہوتے ہیں
بے ارادہ جو کبھی گھر سے نکلتے ہیں کہیں
ہم سے گھر کے در و دیوار خفا ہوتے ہیں
ان کو ہر روز مناتا ہوں کئی بار کہ وہ
مجھ سے اک دن میں کئی بار خفا ہوتے ہیں
کر دیا کس نے پرندوں کے ٹھکانوں کا یہ حال
گھونسلے دیکھ کے اشجار خفا ہوتے ہیں
گاؤں کے لوگ اگر فیصلے خود کرنے لگیں
ان سے پھر گاؤں کے سردار خفا ہوتے ہیں
ذکر تو ہم نے زمانے کی وفا کا چھیڑا
آپ کس بات پہ سرکار خفا ہوتے ہیں
اس لئے بھی یہاں خاموش پڑا رہتا ہوں
غم بتاؤں تو یہ غم خوار خفا ہوتے ہیں
حال دل ہم کو سنانے سے گریزاں بھی ہیں
ہم نہ پوچھیں تو یہ بیمار خفا ہوتے ہیں
نیکی اس شرط پہ کرتے ہیں کہ تصویر بنے
گر کوئی روکے تو سرکار خفا ہوتے ہیں
نقص تعمیر میں جب کوئی نکالے فیصلؔ
ظاہری بات ہے معمار خفا ہوتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.