Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دھوپ کا رنگ آج کالا ہے

امر پنکج

دھوپ کا رنگ آج کالا ہے

امر پنکج

MORE BYامر پنکج

    دھوپ کا رنگ آج کالا ہے

    ڈھونڈیے تو کہاں اجالا ہے

    چونکیئے یوں نہیں اندھیروں سے

    اب سیاست کا بول بالا ہے

    خود مجھے لوٹ کر لٹیروں میں

    نام کس نے مرا اچھالا ہے

    چھوڑ دی جب سے وہ گلی میں نے

    دل کو مشکل سے ہی سنبھالا ہے

    ہے کشش ان میں ایسی کہ ہم نے

    ان کے سانچے میں خود کو ڈھالا ہے

    پوچھ مت کیا کیا ہے جیون بھر

    میں نے ہر شخص کو کھنگالا ہے

    ہیں سخنور کئی یہاں نامی

    پر امرؔ کا کہن نرالا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے