دھوپ کا رنگ آج کالا ہے
دھوپ کا رنگ آج کالا ہے
ڈھونڈیے تو کہاں اجالا ہے
چونکیئے یوں نہیں اندھیروں سے
اب سیاست کا بول بالا ہے
خود مجھے لوٹ کر لٹیروں میں
نام کس نے مرا اچھالا ہے
چھوڑ دی جب سے وہ گلی میں نے
دل کو مشکل سے ہی سنبھالا ہے
ہے کشش ان میں ایسی کہ ہم نے
ان کے سانچے میں خود کو ڈھالا ہے
پوچھ مت کیا کیا ہے جیون بھر
میں نے ہر شخص کو کھنگالا ہے
ہیں سخنور کئی یہاں نامی
پر امرؔ کا کہن نرالا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.