Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دست عوام ہو کہ گریبان شہریار

قتیل شفائی

دست عوام ہو کہ گریبان شہریار

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    دست عوام ہو کہ گریبان شہریار

    اس دور نا سپاس میں دونوں ہیں بے وقار

    وہ شور ہے کہ گیت ابھرتا نہیں کوئی

    یوں ساز بج رہے ہیں کہ گھایل ہے تار تار

    آئی نظر افق پہ شفق سی کھلی ہوئی

    دیکھا تو پڑ رہی تھی وہاں خون کی پھوار

    کانٹوں سے کیا شکایت بے گانگی کریں

    پھولوں نے خود ہی کھول دیا راز نو بہار

    اب دور تک نہیں کسی آہٹ کی نغمگی

    مایوس ہو چلی ہے مری شام انتظار

    سر پر جو آ پڑی ہے تو ہنس کر نبھائیے

    حالات پر نہیں ہے کسی کا بھی اختیار

    کھاتے ہیں وہ فریب محبت کے نام پر

    اب اپنے آپ پر بھی نہیں تم کو اعتبار

    تو نے دیا فریب تو میں بھی رہا خموش

    اے دوست میں بھی تیری طرح ہوں گناہ گار

    شاید کچھ اور بھی میں ترا ساتھ دے سکوں

    اے زندگی کبھی تو پلٹ کر مجھے پکار

    کوئی کسی کی بات سمجھتا نہیں قتیلؔ

    مجھ کو اسی لیے تو ہے دیوانگی سے پیار

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے