دست عوام ہو کہ گریبان شہریار
دست عوام ہو کہ گریبان شہریار
اس دور نا سپاس میں دونوں ہیں بے وقار
وہ شور ہے کہ گیت ابھرتا نہیں کوئی
یوں ساز بج رہے ہیں کہ گھایل ہے تار تار
آئی نظر افق پہ شفق سی کھلی ہوئی
دیکھا تو پڑ رہی تھی وہاں خون کی پھوار
کانٹوں سے کیا شکایت بے گانگی کریں
پھولوں نے خود ہی کھول دیا راز نو بہار
اب دور تک نہیں کسی آہٹ کی نغمگی
مایوس ہو چلی ہے مری شام انتظار
سر پر جو آ پڑی ہے تو ہنس کر نبھائیے
حالات پر نہیں ہے کسی کا بھی اختیار
کھاتے ہیں وہ فریب محبت کے نام پر
اب اپنے آپ پر بھی نہیں تم کو اعتبار
تو نے دیا فریب تو میں بھی رہا خموش
اے دوست میں بھی تیری طرح ہوں گناہ گار
شاید کچھ اور بھی میں ترا ساتھ دے سکوں
اے زندگی کبھی تو پلٹ کر مجھے پکار
کوئی کسی کی بات سمجھتا نہیں قتیلؔ
مجھ کو اسی لیے تو ہے دیوانگی سے پیار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.