شان ہنر کلام سخنور بھی کچھ نہیں
شان ہنر کلام سخنور بھی کچھ نہیں
عجز فقیر و کبر تونگر بھی کچھ نہیں
بنیاد کچھ نہیں ہے کسی شے کی اس جگہ
اس شہر میں بہائے سکندر بھی کچھ نہیں
رشتہ روایتوں سے بھی باقی نہیں رہا
آئندہ کے سفر کے افق پر بھی کچھ نہیں
شام فراق یار وہی دشت و در وہی
صحرائے غم کے پار کا منظر بھی کچھ نہیں
لا حاصلی ہی شہر کی تقدیر ہے منیرؔ
باہر بھی گھر سے کچھ نہیں اندر بھی کچھ نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.