مانا کہ مسافر ہیں جہان گزراں ہم
مانا کہ مسافر ہیں جہان گزراں ہم
معلوم تو ہو ہم کو کہ آخر ہیں کہاں ہم
کیا کوئی جہنم تھا پس پردۂ افکار
اک لمس گریزاں سے ہوئے شعلہ بجاں ہم
دنیا ہو کوئی خواب کہ افسانہ ہو لیکن
یہ ہم کو یقیں ہے کہ نہیں وہم و گماں ہم
اس وضع سے جینا کوئی آسان نہیں تھا
گزرے نہ کسی طور کسی پر بھی گراں ہم
اے روشنیٔ فکر و نظر تیری بدولت
سورج نہ سہی پھر بھی ہیں عالم پہ عیاں ہم
دنیا کو بھی دیکھیں گے جو فرصت ہوئی ہم کو
فی الحال تو ہیں اپنی ہی جانب نگراں ہم
یہ درد کی نعمت جو میسر ہے نہ ہوتی
رہتے جو جہاں میں صفت اہل جہاں ہم
اے عشق جو ہوگا تری عظمت کے منافی
اپنائیں گے بھولے سے نہ وہ طرز بیاں ہم
لکھتے ہیں وہی شعر نکلتا ہے جو دل سے
دہراتے نہیں لیثؔ حدیث دگراں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.