Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں

نظیر علی عدیل

اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں

    پا گئے ہم دشمنوں سے لٹ گئے احباب میں

    ہونے دو دشمن کو شامل حلقۂ احباب میں

    ایک قطرے کی حقیقت کیا ہے اک تالاب میں

    آنکھ ہے نکھری ہوئی سی آنسوؤں میں ڈوب کر

    اس سفینے کا مقدر جاگ اٹھا سیلاب میں

    عکس رخ ہے جام میں بھی جام کے اطراف بھی

    منتظر ایسا ہے جیسے جام ہو مہتاب میں

    بات تو جب ہے کہ آنکھوں میں اک آنسو بھی نہ ہو

    ضبط غم پہلا ادب ہے عشق کے آداب میں

    روز اول سے لٹاتا آ رہا ہے روشنی

    پھر بھی فرق آیا نہ کچھ سورج کی آب و تاب میں

    اس طرح ہم نے شب وعدہ گزاری اے عدیلؔ

    شمع اس محراب سے رکھ دی ہے اس محراب میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے