اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں
اک نیا ہے باب یہ تاریخ کے ابواب میں
پا گئے ہم دشمنوں سے لٹ گئے احباب میں
ہونے دو دشمن کو شامل حلقۂ احباب میں
ایک قطرے کی حقیقت کیا ہے اک تالاب میں
آنکھ ہے نکھری ہوئی سی آنسوؤں میں ڈوب کر
اس سفینے کا مقدر جاگ اٹھا سیلاب میں
عکس رخ ہے جام میں بھی جام کے اطراف بھی
منتظر ایسا ہے جیسے جام ہو مہتاب میں
بات تو جب ہے کہ آنکھوں میں اک آنسو بھی نہ ہو
ضبط غم پہلا ادب ہے عشق کے آداب میں
روز اول سے لٹاتا آ رہا ہے روشنی
پھر بھی فرق آیا نہ کچھ سورج کی آب و تاب میں
اس طرح ہم نے شب وعدہ گزاری اے عدیلؔ
شمع اس محراب سے رکھ دی ہے اس محراب میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.