دیوانگی شکستہ دلی اضطراب دکھ
دیوانگی شکستہ دلی اضطراب دکھ
ہر اک سوال عشق کا سیدھا جواب دکھ
یادش بخیر اس نے کہا تھا کہ خوش رہو
وقت وداع پھر بھی ہوا بے حساب دکھ
مانا کہ اس کے وصل میں کیف و سرور ہے
لیکن وہ شام ہجر کا مثل عذاب دکھ
فکر معاش یاد بتاں کرب روزگار
سن شعور ظلم ہے عہد شباب دکھ
وہ جس کا ایک لفظ بھی لب پر نہ آ سکا
اس داستان دل کا ہے لب لباب دکھ
تیرے جلو میں موت بھی سرمایۂ حیات
تیرے بغیر زیست کا ہر ایک باب دکھ
ورنہ جنون شوق کوئی کیوں کرے قبول
راس آ گیا ہے مجھ کو مرا دستیاب دکھ
ثاقبؔ کل اپنی نیند کا کچھ ایسا حال تھا
جیسے سکوت شب کی ہے تعبیر خواب دکھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.