عجب اک پردہ حائل ہے جو سرکایا نہیں جاتا
عجب اک پردہ حائل ہے جو سرکایا نہیں جاتا
بہت سیدھی سی باتوں کو بھی سمجھایا نہیں جاتا
کبھی یہ ناز تھا خود پر کہ میر کارواں ہم ہیں
لٹے پھر قافلے ایسے کہ اترایا نہیں جاتا
بہت وعدے ہوئے ہم سے مداوا لازمی ہوگا
مگر ہے وقت ایسا قرض لوٹایا نہیں جاتا
بہاریں جب نہیں اپنی تو پھر کیا آرزو رکھنا
یہ گلشن مانگے کی خوشبو سے مہکایا نہیں جاتا
نجانے کیوں سبھی رشتے ہوئے جاتے ہیں اب لاغر
کہ دوری دو قدم کی ہو مگر آیا نہیں جاتا
کسی سے مشورہ کیسا کسی سے پوچھنا کیا اب
محبت ہے ہنر ایسا جو بتلایا نہیں جاتا
مرے صیاد سے کہہ دو نہیں اب لوٹنا ممکن
سمندر میں گرے قطرے کو پھر پایا نہیں جاتا
اب آگے ڈھونڈتے ہو کیا مجھے تم اس کہانی میں
میں ہوں کردار جو انجام تک لایا نہیں جاتا
کہیں گے کیا مجھے اپنے کہے گا یہ زمانہ کیا
ہو ابرکؔ سچ اگر لکھنا تو گھبرایا نہیں جاتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.