Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عجب اک پردہ حائل ہے جو سرکایا نہیں جاتا

اتباف ابرک

عجب اک پردہ حائل ہے جو سرکایا نہیں جاتا

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    عجب اک پردہ حائل ہے جو سرکایا نہیں جاتا

    بہت سیدھی سی باتوں کو بھی سمجھایا نہیں جاتا

    کبھی یہ ناز تھا خود پر کہ میر کارواں ہم ہیں

    لٹے پھر قافلے ایسے کہ اترایا نہیں جاتا

    بہت وعدے ہوئے ہم سے مداوا لازمی ہوگا

    مگر ہے وقت ایسا قرض لوٹایا نہیں جاتا

    بہاریں جب نہیں اپنی تو پھر کیا آرزو رکھنا

    یہ گلشن مانگے کی خوشبو سے مہکایا نہیں جاتا

    نجانے کیوں سبھی رشتے ہوئے جاتے ہیں اب لاغر

    کہ دوری دو قدم کی ہو مگر آیا نہیں جاتا

    کسی سے مشورہ کیسا کسی سے پوچھنا کیا اب

    محبت ہے ہنر ایسا جو بتلایا نہیں جاتا

    مرے صیاد سے کہہ دو نہیں اب لوٹنا ممکن

    سمندر میں گرے قطرے کو پھر پایا نہیں جاتا

    اب آگے ڈھونڈتے ہو کیا مجھے تم اس کہانی میں

    میں ہوں کردار جو انجام تک لایا نہیں جاتا

    کہیں گے کیا مجھے اپنے کہے گا یہ زمانہ کیا

    ہو ابرکؔ سچ اگر لکھنا تو گھبرایا نہیں جاتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے