آتش جاں سے بچتے بچتے اپنے سوز میں جل جانا
آتش جاں سے بچتے بچتے اپنے سوز میں جل جانا
اپنے سوز میں جل جانا ہی میں نے اپنا حل جانا
جاتے جاتے مجھ کو کسی نے تنبیہاً پیغام دیا
اپنا آپ سنبھالا کرنا اپنے آپ سنبھل جانا
اتنی رات گئے آئی ہو بیٹھو نا کچھ بات کرو
یاد نگر تو جھٹ پہنچو گی ایسا کرنا کل جانا
مدت بعد سمجھ آیا کہ دھندلایا کیوں اک منظر
ہر روشن سورج کو آخر اک دن تو ہے ڈھل جانا
میرے شوق میں ایک ذرا بھی تم کو کھوٹ نظر آئے
اعلاناً پھر جھوٹا کہنا منہ پر کالک مل جانا
چوٹ لگے تو درد کی شدت کم کم یوں محسوس کرو
میں نے سب کو گھائل پایا جس جس کو پاگل جانا
سوچ سمجھ کر لپکا کرنا ہر شعلے کی جانب تم
مجھ کو خیرہ کر بیٹھا وہ جس کو بھی مشعل جانا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.