Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک ہی رنگ رچاؤں سب انسانوں میں

قتیل شفائی

ایک ہی رنگ رچاؤں سب انسانوں میں

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    ایک ہی رنگ رچاؤں سب انسانوں میں

    دوڑ رہا ہوں دنیا کی شریانوں میں

    نفرت کی تائید نہیں میں کر سکتا

    نام مرا بھی لکھ لو نا فرمانوں میں

    باہر تو ہر سو ہے راج درندوں کا

    امن کا ہے ماحول فقط زندانوں میں

    پودا پودا پال کے وقت نہ ضائع کر

    کاغذ کے کچھ پھول سجا گلدانوں میں

    اس بیکار کے جینے سے بیزار ہوں میں

    شامل کر لو مجھ کو بھی پروانوں میں

    یارو میں تو یوں بھی گالی کھا لوں گا

    چھوڑو بھی کیا رکھا ہے یارانوں میں

    انسانوں کا خون ہی تم کو پینا ہے

    کھوپڑیوں میں پی لو یا پیمانوں میں

    رات کی چپ میں دل کی دھڑکن تیز کرو

    کوئی تو آواز پڑے گی کانوں میں

    پہلے ہی یہ گورا ہے یہ کالا ہے

    اور ہمیں بانٹو گے کتنے خانوں میں

    صرف ہوا کی چاپ سنائی دیتی ہے

    جذبوں کی یلغار نہیں طوفانوں میں

    مجھ کو اپنے دیس کی مٹی کافی ہے

    کیا رکھا ہے نسلوں اور زبانوں میں

    آج کے سورج ان کے ذہن پہ دستک دے

    سوئے ہیں جو ماضی کے افسانوں میں

    کب تک دھوکا کھائے اپنی پیاس قتیلؔ

    خالی جام کھنکتے ہیں مے خانوں میں

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے