ایک ہی رنگ رچاؤں سب انسانوں میں
ایک ہی رنگ رچاؤں سب انسانوں میں
دوڑ رہا ہوں دنیا کی شریانوں میں
نفرت کی تائید نہیں میں کر سکتا
نام مرا بھی لکھ لو نا فرمانوں میں
باہر تو ہر سو ہے راج درندوں کا
امن کا ہے ماحول فقط زندانوں میں
پودا پودا پال کے وقت نہ ضائع کر
کاغذ کے کچھ پھول سجا گلدانوں میں
اس بیکار کے جینے سے بیزار ہوں میں
شامل کر لو مجھ کو بھی پروانوں میں
یارو میں تو یوں بھی گالی کھا لوں گا
چھوڑو بھی کیا رکھا ہے یارانوں میں
انسانوں کا خون ہی تم کو پینا ہے
کھوپڑیوں میں پی لو یا پیمانوں میں
رات کی چپ میں دل کی دھڑکن تیز کرو
کوئی تو آواز پڑے گی کانوں میں
پہلے ہی یہ گورا ہے یہ کالا ہے
اور ہمیں بانٹو گے کتنے خانوں میں
صرف ہوا کی چاپ سنائی دیتی ہے
جذبوں کی یلغار نہیں طوفانوں میں
مجھ کو اپنے دیس کی مٹی کافی ہے
کیا رکھا ہے نسلوں اور زبانوں میں
آج کے سورج ان کے ذہن پہ دستک دے
سوئے ہیں جو ماضی کے افسانوں میں
کب تک دھوکا کھائے اپنی پیاس قتیلؔ
خالی جام کھنکتے ہیں مے خانوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.