اپنے اجداد کی توقیر سنبھالی ہم نے
اپنے اجداد کی توقیر سنبھالی ہم نے
زندگی بن کے گزاری ہے مثالی ہم نے
کبھی ہونٹھوں پہ کوئی شکوہ نہیں آنے دیا
سوکھی روٹی بھی جو کھائی تو حلالی ہم نے
امن کے واسطے ہم نے ہی اٹھایا تھا قلم
گر ہوئی جنگ تو شمشیر اٹھا لی ہم نے
ہم نے میدان میں کتنوں کو پچھاڑا لیکن
کسی دشمن کی بھی پگڑی نا اچھالی ہم نے
اس سے ملنے کی تمنا تھی مگر پھر اک دن
اپنے دل سے وہ تمنا بھی مٹا لی ہم نے
اس نے اک دن ہمیں بولا تھا کہ تم میرے ہو
اس کی وہ بات ابھی تک نہیں ٹالی ہم نے
ہم بھی دیکھیں گے کسی روز انہیں اے عادلؔ
دل میں پھر حسرت دیدار سجا لی ہم نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.