امن عالم جبر کے جس آہنی پنجے میں ہے
امن عالم جبر کے جس آہنی پنجے میں ہے
کیوں نہ اس کو توڑ دیں انسانیت خطرے میں ہے
جس کے بعد انسان پا جاتا ہے ہر غم سے نجات
زندگی کا ماحصل اس آخری لمحے میں ہے
اب تمہارا فرض ہے اس کی حفاظت مے کشو
آدمیت برہمن اور شیخ کے نرغے میں ہے
کس قدر بدلا ہوا ہے دور حاضر کا مزاج
کیا قیامت ہے جنوں بھی عقل کے کہنے میں ہے
دیکھنے کے واسطے چشم بصیرت چاہئے
کائنات حسن کا جلوہ ہر اک ذرے میں ہے
لب پہ کچھ ہے دل میں کچھ ہے اس سیاسی دور میں
کون کہہ سکتا ہے راہیؔ کون کس خیمے میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.